23 ستمبر 2011 - 20:30

کوئٹہ کے خونخوار دہشت گردوں کی پیاس ابھی نہیں بجھی اور وہ گویا امن و قانون کے موجودہ خلا سے بھرپور فائدہ اٹھا کر مزيد خون خرابہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں چنانچہ 12سالہ تاجک بچے کو طوغی روڈ کوئٹہ پر واقع حسینی امام بارگاہ پر بم نصب کرتے ہوئے اہلیان علاقہ نے پکڑ کر ایجینسیوں کے حوالے کردیا۔

ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق طوغی روڈ کوئٹہ پر واقع حسینی امام بارگاہ پر بم دھماکہ کی سازش کو علاقے کے مومنین نے ناکام بنا کر طا لبان دہشت گرد تاجک بچہ کو اس وقت پکڑ کر ایجینسیوں کے حوالے کردیا جب وہ امام بارگاہ پر بم نصب کر رہا تھا۔واضح رہے کہ اس ہفتے کوئٹہ میں دہشت گردوں کی سفاکانہ کاروائیوں میں 30 سے زائد مومنین جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔شیعیت نیوز کے نمائندے کہ مطابق حسینی امام بارگاہ پر بم دھماکے کی سازش کو علاقے کے شیعہ باشندوں نے اپنی مدد آپ کہ تحت ناکام بنا کر 12 سالہ تاجک بچے کو ایجینسیوں کے حوالے کردیا ہے۔اہلیان علاقہ کے مطابق خونخوار وہابی دہشت گردوں نے تاجک بچے کو صرف اس لئے دہشت گردی کی اس گھناؤ‎نی سازش کے لئے استعمال کیا کہ اس کے ظاہری خدوخال ہزارہ برادری کے پیروان اہل بیت (ع) سے سے ملتے جلتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس سے قبل بھی دہشت گرد اس روش سے استفادہ کرتے رہے ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110